لندن ،4؍مارچ ( آئی این ایس انڈیا ) یورپی یونین نے یوکرین کو ہتھیار فراہم کیے ہیں اور یوکرین پر حملے کی پاداش میں ماسکو پر پابندیاں عائد کی ہیں جو کئی برسوں میں روس کے خلاف اس کا سخت ترین اقدام ہے۔لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ یورپی بلاک میں رکنیت کی یوکرین کی درخواست پر برسلز کب تک جواب دیتا ہے۔ اس ہفتے یورپی پارلیمنٹ سے ولود یمیر زیلنسکی کے خطاب نے سخت دل رکھنے والے قانون سازوں کو بھی آبدیدہ کر دیااور جب انہوں کہا کہ یوکرینی اپنی آزادی کے لیے جانوں کی قربانیاں دے رہے ہیں،تو تمام ایوان نے کھڑے ہو کر یوکرین کے عوام اور زیلنسکی کو خراج تحسین پیش کیا۔
زیلنسکی نے کہاہے کہ ہم یورپی ارکان کی برادری میں شامل ہونے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں اور ہمیں یقین ہے کہ یورپی یونین ہماری موجودگی میں مزید مضبوط ہوگا۔ستائیس رکنی بلاک میں شمولیت کے لیے کیف کی یہ تازہ ترین کوشش ہے اور پیر کے روز زیلنسکی نے رکنیت کے لیے باقاعدہ درخواست دی۔یوکرین ہمیشہ سے یورپی یونین کا حصہ بننے کی کوشش کرتا رہا ہے اور اپنی آزادی کے بعد سے اس کے لیے جدوجہد کر رہا ہیجو ابھی تک بارآور نہیں ہوئی۔برسلز میں قائم تحقیقی گروپ یورپین پالیسی سنٹر کی سینئر تجزیہ کار ایمنڈا پال کہتی ہیں کہ یہ ایک مناسب موقع ہے۔
انھوں نے کہا کہ یوکرین کی صورتحال بہت تشویشناک ہے، وہاں کے لوگوں نے ثابت کیا ہے کہ وہ ایک بہادر قوم ہیں جو یورپی سیکیورٹی کے لیے لڑ رہی ہے۔ میرے خیال میں یورپی یونین کے ارکان میں بھی بہت سے حامی ہوں گے جو چاہتے ہیں کہ رکنیت کی درخواست کو جلد از جلدنمٹائیں۔یورپین کمیشن کی چیف ارسلا وان دیئر لین نے بہت سے یورپی یونین لیڈروں کے جذبات کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ بہت عرصے سے یوکرینی ہمارے ساتھ ہیں ،ہمارا حصہ ہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ شامل ہوں۔لیکن یوکرین کے بڑے حامی زیادہ تر مشرقی اور وسطی یورپی ریاستیں ،رکنیت کے اس عمل کو تیز کرنا چاہتی ہیں۔